: شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
: سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
بڑا مہربان نہایت رحم والا
انصاف کے دن کا حاکم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جسکو یہ بات پسند ہو کہ اس کی امر دراز ہو اور اس کا رزق بڑھا دیا جائے تو اسکو چاہیے کہ ماں ،باپ اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے
سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان صدر ٹرمپ سے ملاقات کے
لیے امریکا روانہ ہو گئے ہیں۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے ان سے
ملاقات کرنے والے پہلے اعلیٰ ترین سعودی رہنما ہوں گے۔ نیوز ایجنسی اے ایف
پی کی رپورٹوں کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ملک میں اقتصادی اصلاحات
کے ایک بڑے منصوبے کے تحت سعودی عرب میں زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ
کاری کی کوششیں کر رہے ہیں اور وہ پیر کے روز امریکا روانہ تو ہو گئے ہیں ۔
تاہم ان کا یہ دورہ سرکاری طور پر 16 مارچ سے شروع ہو گا۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے نے لکھا ہے کہ اس دورے کے دوران ملکی نائب ولی
عہد کی کوشش ہو گی کہ امریکی رہنماؤں سے ان کی بات چیت کے دوران توجہ
دوطرفہ روابط کو مزید بہتر بنانے اور علاقائی معاملات سے متعلق مشترکہ
مفادات پر مرکوز رہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نائب ولی عہد ہونے کے علاوہ
سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بیٹے اور ملکی وزیر دفاع بھی ہیں تاہم سعودی
عرب کی اس تیسری اہم ترین شخصیت کی توجہ زیادہ
تر اقتصادی امور پر مرکوز
رہتی ہے۔
اسی سعودی شہزادے نے گزشتہ برس وژن 2030ء کے نام سے وسیع تر سماجی
اور اقتصادی اصلاحات کے اس پروگرام کی ابتدا کی تھی، جس کے تحت اس خلیجی
ریاست کی اب تک تیل کی برآمد پر انحصار کرنے والی معیشت میں تنوع پیدا کیا
جانا ہے۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ واشنگٹن اور ریاض کے باہمی تعلقات عشروں
پرانے ہیں، جن کی بنیاد سعودی تیل کے بدلے اس ریاست کو مہیا کی جانے والی
قومی سلامتی کی امریکی ضمانتوں پر ہے۔ تاہم ان روابط میں سابق امریکی صدر
باراک اوباما کے آٹھ سالہ دور صدارت میں وہ گرمجوشی دیکھنے میں نہیں آئی
تھی، جو اس سے پہلے تک پائی جاتی تھی۔
اس کا ایک اہم سبب سعودی حکمرانوں میں پایا جانے والا یہ احساس بھی تھا کہ
باراک اوباما امریکا کے شام کی جنگ میں شامل ہونے سے ہچکچاتے رہے تھے اور
ان کا جھکاؤ کسی حد تک سعودی عرب کے علاقائی حریف ملک ایران کی طرف تھا، جس
کے ساتھ واشنگٹن نے اوباما کے دور صدارت میں تہران کے متنازعہ ایٹمی
پروگرام سے متعلق معاہدہ بھی کر لیا تھا۔